حشر اوارگی۔۔۔
ہمسفر۔ قسط نمبر 1
سدرہ : یار میں تو ملک پوائنٹ سے اتی ہوں۔ اپنی سیٹ پر۔ مگر بس سلور جوبلی گیٹ پہ رک جاتی ہے چلنا بہت پڑتا ہے۔
تزین : یار مجھے تو اتنا پہلے بھی چل کر جانا پڑتا ہے کے یو پوئنٹ پکڑنے کے لئے۔ اور سیٹ کے لئے ایک جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ مگر وہ بھی سلور جوبلی پہ ہی اترتی ہے اور پھر پیدل ڈیپارٹ تک کی خواری۔
حسینہ : ہن ہن ہن ہن۔۔۔اففف تھک گئ میں اتنی سیڑیاں چڑھ کر ایک تو پہلا پیریڈ ہی لیب کا ہے وہ بھی ٹھرڈ فلور پہ۔
صائمہ : یار یہ ٹیچر کب ختم کریں گی لیکچر۔ کھڑے ہوہو کر ٹانگیں دھک گئی ہیں۔ اور بیٹھ کر وائٹ بورڈ نظر نہیں ائے گا۔۔۔
ٹیچر : اوکے کلاس ۔۔ کلاس از اینڈ۔
صائمہ : شکر ہے یار میں نے تو اج بے حوش ہوجانا تھا کھڑے کھڑے پیر دکھ گئے ہیں۔ خون نچوڑ لینگے یہ تو ہمارا۔
فوزیہ : صائمہ یار فورتھ فلور پہ کلاس ہے کولوجی کی۔ میم ڈانٹیں گی لیٹ انے پہ۔
صائمہ : اج پھر میم نہیں ائیں۔ یار یونی ہم خوار ہی ہونے اتے ہیں اتنی دور سے۔ انکو تو ہماری اٹینڈنس پوری چاہئے اور اپنی اٹنڈینس پوری کرنا بھول جاتی ہیں۔ اتنا بھاگ بھاگ کہ مجھے تو بھوک لگ رہی ہے۔ تم چلو گی سدرہ کینٹین؟ یا میں ہی کچھ لے ائوں تمھارے لئے۔
سدرہ : ہاں فرائیز لے انا وہ بھی تمھاری طرف سے۔
صائمہ : اوکے۔ انکل پراٹھا رول کتنے کا ہے۔ 40 روپے کا۔ یار یہ تو کافی مہینگا ہے۔ کچوریاں کتنے کی ہیں؟ 20 کی۔ اچھا یہ پیک کردیں۔
سدرہ : انکل سالن ہے تھوڑا تو ایک کچوری اور دے دیں۔
بشرہ : یار سدرہ کہیں تو لیول رکھا کرو۔ اب کچوری مانگتے ہوئے تمھیں میرا بھی امپریشن خراب ہوتا ہے۔ کس بھیکاری کی دوست ہے۔
بشرہ : حدیث میں ہے کہ دوسروں کو اللہ کو بہت پسند ہے۔ ہمیں دوسروں کو کھانا کھلانا چاہیے۔
صبا : تو کھلا دو نا۔
ہمسفر- قسط نمبر 2
فاطمہ : تمھارا نام کیا ہے۔
فضا : لائیبریری میں اتنا شور ہے۔ پڑھا بھی نہیں جارہا اور تمھیں نام پوچھنے کی پڑی ہے۔ تم اپنے کام سے کام رکھا کرو۔ ہم یہاں اپنا کرئیر بنانے ائے ہیں دوستیاں نبھانے نہیں ائے۔
فاطمہ : یار یہ سرمد کے ساتھ جو لڑکی ہوتی ہے کیا نام ہےاسکا؟
نورین : فضا نام ہے۔
فاطمہ : ہاں یار یہ کتنی روڈ ہے۔ میں نے صرف اس سے نام پوچھا تھا اور اپنے کیرئیر کے بارے میں پتا کر چلی گئی۔ یار یہ امیر لگتی ہے تبھی ایسی ہے۔
نورین : ہوگی یار ہمیں کیا۔ چلو کلاس کا ٹائم ہورہا ہے۔
فضا : یار کل سے ہم لوگ کمبائین سٹڈی کریں گے۔ مجھ سے تو اس رش میں کچھ نہیں پڑھا جاتا۔ کیا کہتی ہو فوزیہ؟
فوزیہ : ہاں ٹھیک ہے۔ کتنا مزہ ائیگا خوب گپیں ماریں گے اور مزیدار کچھ پکائیں گے۔
فضا : یار کافی دنوں بعد تمھارے گھر ائو نا تو کافی اچھا کھانا کھانے کو ملتا ہے۔ تو ہم پھر گیپ دے کر ہی ائیں گے۔
فوزیہ : اوکے۔ انٹی اور چھوٹی کو سلام کہنا۔
ہمسفر- قسط 3
اسرا : یار فضا ہم تمھارے ایریا میں ہوتے تو ہم تمھیں بہت تنگ کرتے۔ تم کیوں نہیں رہتی ہمارے ایریا میں۔ اب ہمیں یونی کا انتظار کرنا پڑتا ہے تم سے پڑھنے کے لئے۔
فضا : یار میرے ایریا کی لڑکیاں مجھے بہت تنگ کرتیں ہیں۔ کبھی یہ سمجھادو کبھی وہ۔ تمھیں تو پتا ہے وہ میری دوستیں نہیں ہیں عجیب جاہل پینڈو عورتیں ہیں۔ مگر ایک ہی پوائینٹ میں جانا پڑتا ہے تو پھر ہم کمبائین بھی سٹڈی کرلیتے ہیں۔
اسرا : یار فضا تم نے کیا سارا یاد کیا ہے۔ تم اتنی ریلیکس لگ رہی ہو۔
فضا : تمھیں میرے ماتھے پہ پاگل لکھا ہوا نظر ارہا ہے۔ ابوئیسلی نہیں یار۔ پورا کون یاد کرتا ہے۔ چل یار ہوجائے گا پیپر بھی کیوں اتنی ٹینشن لیتی ہو۔
ساجدہ : یار اسرا کبھی تم نے فضا کی ڈریسنگ دیکھی ہے کیا ڈریسنگ کرتی ہے وہ۔ ایک تم بھنگن بن کر اجاتی ہو۔ یار کچھ اسی سے سیکھ لو۔ سب لڑکے لڑکیوں کی نظر ہے اس پر۔ اور اپنا عبایا تھوڑا ٹائٹ پہنا کرو یار۔ عجیب لٹکا ہوا جسم لگتا ہے۔
اسرا : یار وہ جمعیت کی سینیر باجی نے مجھے سختی سے منع کیا ٹائٹ عبایا پہننے سے۔ اور تم لوز کروارہی ہو۔ اب میں انکی سنوں یا تمھاری۔
ساجدہ : ارے ان پاگلوں کو کیا پتا فیشن کا۔ ان پولیٹیکل پارٹیز سے دور رہا کرو تم دماغ واش کردیتے ہیں یہ لوگ۔
اسرا : اوکے جناب جیسے تم کہو۔
ایمان : یار اسرا کبھی جی سی ار سے نکل بھی جایا کرو۔ کبھی لڑکوں سے بھی بات کرلیا کرو۔ کھا تو نہیں جائیں گے وہ تمھیں۔ تم تو لگتا اسی جی سی ار میں دفن ہوجائو گی۔
اسرا : یار بس مجھے پسند نہیں فالتو میں بات کرنا۔ کرنی پڑی تو تم کو کہہ دوں گی تم۔کرلینا میری اچھی دوست۔ اور تم بھی فضول میں باتیں نا کیا کرو ان سے۔
ایمان : ایک تو یہ ہماری ملانی دوست ہمارے ناجانے کن گناہوں کی سزا میں ہمیں مل گئی ہے
ہمسفر - قسط 4:
اسرا : کائینات باجی ہم کیسے انائیونسمینٹ کریں گے ؟ لڑکوں کے کیسے نکالیں گے کلاس سے۔۔ اور لڑکیاں ائیں گی بھی درس القران میں؟
کائینات : یہی تو دین ہے اسرا۔ اپکو دین کی دعوت دینا سب پہ فرض ہے۔ اب یہ اناوئیسمنٹ تو اپکو کرنی پڑی گی۔ اور لڑکوں کو کیسے نکالنا ہے یہ اپ خود سوچیں۔
سرمد : یار ایمان یہ اسرا سے بولو ہم بھی تمھارا درس سن لیتے ہیں۔
ایمان : یار اسرا تمھیں کیا مسئلہ ہے لڑکوں سے انکو بھی درس دے دو۔
اسرا : نہیں یار کائینات باجی نے منع کیا ہے۔ اور مجھے خود بھی نہیں پسند۔
ایمان : ایک تو تمھاری یہ کائینات باجی مصیبت بن گئی ہیں یار ہمارے لئے تو۔
سرمد : یار یہ تمھاری دوست میں تو بڑا ایٹو ٹیوٹ ہے۔ دوستی تو کروادو اسکی ہم سے بھی۔
ایمان : تم پاگل ہوگئے ہو۔ تمھیں پتہ ہے نا وہ پردہ کرتی ہے۔ ہماری بھی دوستی تڑوائوگے تم۔
اسرا : والعصر کی یاد ہانی کے ساتھ ہم اپنا درس مکمل کرتے ہیں۔ ربی یووسر ولا توسر وتمم بل خیر۔۔
کائینات : کل ہم سورہ نور کی ڈسکشن کریں گے تو اپ سب پڑھ کر ائیے گا۔
اسرا : ایمان چلو تم بھی سورہ نور پڑھارہی ہیں کائینات باجی۔ اور تم کو میرے ساتھ لازمن ہونا چاہئے۔
ایمان : اوکے یار۔ تو اور دوستوں کو بھی لے چلتے ہیں۔
اسرا : یاں ۔ کیوں نہیں ضرور۔
سرمد : یار ایمان تم بھی شروع ہوگئ ہو اس عالمہ کے ساتھ؟
ایمان : سرمد کبھی تو شرم کرلیا کرو۔ مسلمان ہو تم بھی تمھیں ہمیں پڑھانا چاہئے الٹا ہمارا ہی مزاک اڑارہے ہو۔
سرمد : یار یہ پولیٹیکل پارٹیز سے ہم دور ہی اچھے ہیں۔ اور یہ سب پڑھیں گے تو فارمیسی کب پڑھیں گے۔
ایمان : شٹ اپ۔ اینڈ گیٹ لاسٹ۔
سرمد : اوکے اوکے مسلمان میڈم۔ میں بھی پڑھ لوں گا کبھی دل کیا تو
۔ہمسفر : قسط 5:
صبا : اسراء تمھاری شادی ہوگئ ہے کیا۔ کتنا پیارا پرس ہے تمھارا؟
اسراء : نہیں یار یہ تو پینسل باکس ہے۔ اتنی اچھی قسمت کہاں ہماری۔ ابھی تو دور دور تک کوئ نہیں دکھ رہا۔
کائنات : لڑکیوں اپ لوگوں نے یہ جمعیت میگزین پوری کلاس میں بانٹنیں ہیں۔ اور ان ائیٹمز کو بیچنا بھی ہے۔
اسراء : فضا یہ سکارف کیسا ہے تم پر بہت اچھا لگے گا۔
فضا : یار کیا لنڈے کی چیزیں لگ رہیں ہیں سب۔ اور میں برانڈڈ کپڑے پہنتی ہوں۔ اور سکارف تو میں نے زندگی میں کبھی لیا ہی نہیں۔ سوری یار یہ مجھے نہیں پسند۔
اسراء : کائنات باجی یہ کام دے دئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ہم یونی میں کوئی گناہ کررہے ہوں۔ ہماری طرف کوئ دیکھتا بھی نہیں۔
کائنات : تو اپ فضا سے خریدوا نہیں سکتی تو اسکو گفٹ کردو۔ دین پہ چلانے کے لئے بھی بہت سے طریقے ازمانے پڑتے ہیں جیسے دنیا چلانے کے لئے۔
اسراء : اوکے باجی۔
سہیل : یہ تم نے کس ریڑھی سے سکارف لیا ہے۔ بلکل بھی سوٹ نہیں کررہا۔ کتنا ڈل کلر ہے اسکا۔ اور تمھیں اسکارف لینے کا دورہ کب سے پڑا فضا؟
فضا : یہ مجھے اسراء نے گفٹ کیا ہے۔ اور مجھے یہ پسند ہے۔
سہیل : پر مجھے تو نہیں پسند تم ابھی اتارو اسے۔
فضا : تم میرے شوہر نہیں ہو جو مجھ پہ حکم چلا رہے ہو۔
سہیل : ٹھیک ہے مرو تم اپنی اسی اسراء کے ساتھ ائندہ مجھے اپنی شکل نا دکھانا۔
فضا : بائے۔ (دفع ہی رہو تم بھی)
اسراء : اکیلی اداس کیوں بیٹھی ہو فضا؟ سہیل بھائ کہاں ہیں۔
فضا : نام نہ لو اس کافر کا۔ ہمارا بریک اپ ہوگیا ہے۔ اور یہی بہتر ہے۔
اسراء : اچھا چلو موڈ ٹھیک کرو۔ چلو میں تمھیں ائس کریم کھلاتی ہوں۔
فضا : تم کتنی اچھی ہو اسراء۔ میں ایویں تم سب کو برا بھلا بولتی تھی۔ تم نہ ہوتی تو میں خود کشی کرچکی ہوتی اس کافر کی وجہ سے۔
ہمسفر - قسط 6:
سارہ : اسلام علیکم۔
مبشرہ : وعلیکم۔
فوزیہ : یار مبشرہ یہ سارا تو کبھی سلام کا جواب ہی نہیں دیتی۔
مبشرہ : نہیں۔ میرے ساتھ تو ایسا نہیں۔ بلکہ وہ تو مجھے خود سلام کرتی ہے۔
فوزیہ : یار مجھے تو بہت پسند ہے سارہ مگر وہ مجھے روڈ لگتی ہے میرے ساتھ۔ اور خوبصورت بھی کتنی ہے۔
اسراء : اسلام علیکم۔ گلے لگنے سے گناہ جھڑتے ہیں۔
فوزیہ : (ایک تو یہی رہ گئیں ہیں گلے لگنے کے لئے۔ کتنے گندے کپڑے پہنتی ہیں یہ لوگ کوئی ڈریس سینس ہی نہیں اور وہ بھی بد بو دار۔ صفائ نصف ایمان ہے یہ نہیں دکھتا انکو۔ بس گلے لگ جائو ان کے جن کا وجود دیکھنے کو بھی دل نہیں کرتا۔) وعلیکم سلام۔ یار کبھی نہا بھی لیا کرو۔ اور کل ہم شاپنگ مال جارہے ہیں۔ تم وہاں اپنے لئے کوئی ڈھنگ کے عبایا پسند کرلینا۔ یار تم سے گلے مل کر میری کتنی انسلٹ کرتے ہیں لڑکے۔ کہ اسکو یہ بھکاری ہی ملتی ہیں چمہ چاٹی کے لئے۔۔۔
اسراء : اچھا یار۔ اصل میں شائد ہورمونل مسئلے ہیں میرے جو مجھے پسینہ بہت اتا ہے اور اس میں بدبو بھی ہوتی ہے۔ ورنہ میں تو روز نہاتی ہوں اور عبایا دھوتی ہوں۔
فوزیہ : ہر وقت تو تم کھاتی رہتی ہو یا پانی پیتی رہتی ہو۔ اور پتا نہیں کیا گند بلا کھاتی ہو۔ کوائلٹی ڈائیٹ لیا کرو۔ اسی لئے تو پسینہ میں بھیگی رہتی ہو۔
اسراء : ہاں یار ائیندہ سے میں سیلف میڈیکیشن نہیں کروں گی۔ مگر ڈاکٹر کی فیس کے لئے پیسے نہیں ہوتے اس لئے۔
فوزیہ : تو یونی چھوڑ دو۔ ہم تم بدبو دار ہستی کو کتنی مشکل سے برداشت کرتے ہیں یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ ایک تو تم۔پڑھ بھی میڈیکل رہی ہو اور انہی پر ایک رپیہ نہیں خرچ کرسکتی۔ اس فیلڈ کی توہیں کررہی ہو تم اور ہماری بھی۔
اسراء : نہیں یار۔ میں یونی نہیں چھوڑ سکتی۔ دیکھتی ہوں کہیں پارٹ ٹائم جاب مل جائے۔
قسط نمبر 7:
سکینہ : اسراء تم جاب ڈھونڈ رہی تھی نا یہ کال سینٹر کی جاب ائی ہے پانچ ہزار مہینہ ہے تنخواہ۔
اسراء : یار کال سینٹر۔ نامحرموں سے بات کرنی پڑے گی؟؟ نہیں یار یہ تو مناسب نہیں۔
فوزیہ: تو پھر تو یونی چھوڑ دو ورنہ یہ لوگ تمھیں طعنے دے دے کر ویسے ہی مار دینگے۔
اسراء : اچھا میں کرلیتی ہوں۔
سرمد : ہم نے سنا ہے ہماری معلمہ نے کال سینٹر میں جاب شروع کردی ہے۔ واہ کیا معلمہ ہیں یہ۔
ایمان : اسکی کوئی مجبوری ہوگی۔ تم ہر کسی کے ایمان کو جج کیوں کرتے ہو۔
سرمد : جج تو نہیں کررہا ۔۔ ایک اسکو اپنے کلاس میٹز سے ہی چڑ ہے۔۔ باقی دنیا جہان کے مردوں سے اب بات کررہی ہے۔
ایمان : تم کیا چاہتے ہو؟
سرمد : کچھ نہیں۔ میں نے کیا چاہنا ہے۔ پر وہ مجھے اچھی لگنے لگی ہے یار۔
ایمان : تو تم اسکو میری سوکن بنائو گے۔ یہی امید تھی تم سے۔ وہ نہیں ہے انٹرسڈٹ یار تم میں۔ فلحال میرے ساتھ ہی گزارہ کرو۔
سرمد : نہیں مجھے وہی چاہئے۔ ہر حال میں۔ میرا سکون برباد کردیا ہے یار اسنے۔ اب تو مسلسل اسکی انکھیں میرے خوابوں میں اتیں ہیں سارا دن اسکو سوچتا رہتا ہوں۔
ایمان : اچھا سوچتے ہیں کچھ تم دونوں کے بارے میں۔ پر مجھے تو نہیں چھوڑو گے؟
سرمد : ارے نہیں چھوڑوں گا یار۔ تم بس میری اس سے دوستی کرادو۔
اسراء : سرمد اپکا نام ہے؟ سر باسد کہہ رہے تھے اٹینڈنس شیٹ اپکے پاس ہے۔ میری بھی لگادیں۔
سرمد : (یارکیا انکھیں ہیں اسکی، کیا اواز ہے۔ میرا بس نہیں چل رہا اسکو اٹھا کر گھر لے جائوں۔) اچھا مجھے تو اپ نظر نہیں ائیں کلاس میں۔
اسراء : دیکھیں اپکی ان حرکتوں کی وجہ سے میری شارٹ اٹینڈنس ہوجائے گی۔ اور میری ڈگری رک جائے گی (اور بعد میں رشتہ بھی) تو اپ برائے مہربانی میری اٹینڈنس لگادیں۔
سرمد : (اسکی تومیں شارٹ اٹینڈنس کرواکر رہوں گا۔
)
ہمسفر- قسط نمبر 8:
(گیارہ سال بعد)
اسراء : صمد اپ چلیں نا اس گائوں، میں نہیں وہ چھوڑ سکتی۔ وہیں گھر لے لیتے ہیں۔
صمد : ہاں تمھارے بغیر بجلی اور گیس والے علاقے میں رہیں گے ان دیہاتیوں کے ساتھ۔ میں نے اپنے بچوں کے فئوچر جرمنی میں سوچا ہے میں وہاں کی کوشش کررہا ہوں۔ اور تمھاری دقیانوس سوچ کو بدلتے بدلتے ہم نے فوت ہوجانا ہے۔ کیسے رہو گی تم ان گواروں میں۔ زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی نہیں ادھر۔ لڑتے رہیں گے ہمارے بچے ان گوار لوگوں کے ساتھ۔
اسراء : اپکی زندگی کا مقصد بس اپنی فیملی کو سیٹل کرنا ہی رہ گیا ہے کیا؟ ان غریبوں کا بھی کبھی سوچیں جو ہمیشہ اپ جیسے امیروں کی مشکل وقت میں کام اتے ہیں۔ میں پاگل ہوجاتی کسی نفسیاتی ہسپتال میں ہزاروں فیسیں بھر رہے ہوتے اپ۔ شکر کریں ان لوگوں کی وجہ سے میں بلکل صحیح سلامت ہوں۔ ورنہ مخلوط ماحول میں لاکھوں کی جاب کر بھی لوں تو دنیا تو شائد سنور جائے پر اخرت پوری طرح خراب ہوجائے گی۔
صمد : سوچتے ہیں کچھ۔ مگر ایسا نا ممکن ہے۔ تم جرمنی جانے کی تیاری کرو۔ مجھے اپنے بچوں کا فیوچر نہیں تباہ کرنا۔
ایمان : یار میں نے تو تم کو اپنی سوکن بنانا تھا مگر تم نے صمد کو چنا۔ سرمد اج بھی تمھارا انتظار کرتا ہے۔
اسراء : میں صمد کے ساتھ بہت خوش ہوں۔ اور تم سرمد کو میری کمی نا ہونے دو۔ یار اب تو میں بچوں والی ہوں۔ کیسے سوچ سکتی ہوں اس کے بارے میں۔
واحدہ : تو اپ یہ جاب چھوڑ رہیں ہیں اسراء؟ اپ بیچ میں سے سیشن پورا کئے بغیر جارہی ہیں۔ اپکو کوئی ٹیچر ارینج کرکے دینی ہوگی ورنہ اپکو اس ماہ کی تنخواہ نہیں ملے گی۔
اسراء : وہ میرے شوہر کو اچانک شفٹ ہونا پڑ رہا ہے جرمنی۔ میں نے بہت کہا تھا ان سے مگر وہ نہیں مانیں۔ اپ تنخواہ نہ روکیں میں کوئ ٹیچر ارینج کردوں گی۔
ہمسفر- قسط 9 (اخری قسط)
اسراء : کیا؟؟؟ کیا کہہ رہے ہو تم۔ کار ایکسیڈنٹ ۔۔(ویسے اچھا ہی ہوا بچوں سمیت مرگیا۔ اس گند کو کہاں سمبھالتی پھرتی میں) اچھا ۔۔۔ کفن دفن کا انتظام۔کروائو۔
خدا بخش : شکر کرو تم جرمنی اکر بھی تمھاری زندگی اجیرن کی ہوئی تھی تمھارے شوہر اور اسکے گھر والوں نے۔ اچھا ہی ہوا جلدی اپنے انجام کو پہنچا۔۔۔
اسراء : ہاں اب کیا یاد کرنا ۔۔۔ اسکے حرام پہ پلنے والی اولاد بھی اسی کی جیسی تھی اچھا ہوا اسی کے ساتھ ہی ختم۔ اسی لئے میں جاب نہیں چھوڑتی کبھی۔ اپنا کمایا ہوا صحیح لگتا ہے۔
خدا بخش : عدت کے بعد میں رشتہ لائوں گا تمھاری طرف۔ انکار مت کرنا پلیز۔
اسراء : ابھی تو مجھے کسی سے شادی نہیں کرنیں۔ بس پاکستان جانا ہے واپس۔ عدت کے بعد سوچتے ہیں۔
---ختم شد۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں