ہم شکل
ہم شکل۔۔ قسط نمبر 1
فائزہ : امیر تم بلکل میرے کوچنگ سینٹر والے سر کیطرح لگتے ہو۔ جن سے مجھے شدید محبت ہوگئ تھی۔ اور میں انکے ڈپریشن میں چلی گئ تھی۔
امیر : ہاں خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر لڑکیاں ڈپریشن میں چلی جاتی ہیں۔
فائزہ : تو کیا اب ہمارے بیچ کچھ نہیں رہا وہ اکھٹے ریڈیو پہ گانے سننا ایک ہینڈ فری تمھارے کان۔میں ایک میرے کان میں۔۔ تم کیسے سب بھول سکتے ہو؟
امیر : دیکھو میرے خاندان والے راجپوت ہیں اور ہم برادری سے باہر شادی نہیں کرتے۔ میں بات کرچکا ہوں گھر میں مگر یہ رشتہ نہیں ہوسکتا۔
فائزہ : مگر میں تو اس فیلڈ میں ائ ہی اس لئے تھی کہ مجھے اپنا ہم۔جماعت مل جائے۔ ورنہ میرا یہ سب پڑھنا بیکار ہے۔
امیر : تو میرے علاوہ بہت سے ہم جماعت ہیں تم ان پہ کوشش جاری رکھو۔
(ایک ہفتے بعد)
فائزہ : میں نے استخارہ کیا تھا اس میں تم دکھے مجھے۔
امیر : میرے انکار کے باوجود تم نے استخارہ کرلیا۔ خوبصورت لڑکے خوابوں میں نظر اجاتے ہیں۔ تم ہمارے لئے اپنی پڑھائ پہ دھیان دو۔
(4 سال بعد)
فائزہ : کیسے ہو؟ یہ رنگ کیسی ہے۔ اور اتنے دن سے کہاں غائب تھے؟
امیر: میں پنجاب میں تھا اور یہ میری انگیجمینڈ رنگ ہے۔
فائزہ : مبارک ہو۔
امیر : خیر مبارک۔
(دو سال بعد)
مقصودہ : فائزہ کیسی ہو۔ تمھیں نیوز دینی تھی کہ میرے اور امیر کے گھر موسی ہوا ہے۔ مبارک باد نہیں دوگی؟
فائزہ : مبارک ہو۔
امیر : تو تمھیں اب تک کوئ نہیں ملا۔
فائزہ : ہاں۔۔ تمھارے علاوہ کوئ پسند ہی نہیں ایا۔
امیر : مجھے تو اپنی کلاس کی ایمن بہت پسند حسین سٹائلش اور بولڈ اور امیر ترین بھی۔ تمھاری طرح پھٹو نہیں تھی وہ۔۔ اگر میں کروں گا دوسری شادی تو اس سے کروں گا۔ تم مجھے سوچنا چھوڑ دو۔
فائزہ : ہاں تمھارے بعد مجھے علی پسند اگیا تھا۔ اس کے گھر وا
والے ائے تھے رشتہ لے کر مگر میرے گھر والوں کو تمھاری والی بیماری ہوگئ تھی۔ وہ ذات سے باہر رشتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
امیر : ہاہاہا وہ اور تم امپوسیبل تمھیں کوئ پسند کر ہی نہ لے اور علی تو بلکل بھی نہیں وہ ہائ کلاس کا ہے اس کو تمھارے جیسے گندے لوگوں میں کوئ انٹرسٹ نہیں ہوگا۔
(6 مہینہ بعد)
علی : تم سے پھر عمر الجھا ہے۔۔ اس کی تو میں جان لے لوں گا۔
فائزہ :اپکا بھائ ہے چھوٹا کوئ بات نہیں ہوجاتی ہے غلطی۔
علی : غلطی؟ اسکو غلطی کہہ رہی ہو تم اسکا کلبوں کا نشہ تو میں نکالتا ہوں۔ شراب کی حالت میں تمھارے ساتھ بستر پہ وہ لیٹا کیسے؟؟
فائزہ : ہمیں اسکی شادی کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ میری کزن کومل کیسی رہے گی۔
علی : ہمم سوچتے ہیں۔ اسکو کلبوں کی لڑکیوں کی عادت پڑگئ ہے۔ وہ پارسا اس جاہل کو کہاں پسند ائیگی۔
فائزہ : اپ بات تو کریں۔
علی: کوئ لڑکی دیگا کیسے اسے۔ اک نشئ کے سر کون اپنی لڑکی خراب کرنا چاہے گا۔
فائزہ : دیکھے اپکا ایسا رویہ تو وہ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس کو اپنے باپ سے بھی نفرت ہے تو اپ اسکے اچھے دوست ہوکر یہ سب ڈسکس کریں۔
علی : دیکھتے ہیں۔
قسط 2:
فائزہ : عفت انٹی میں سوچ رہی تھی عمر کی شادی کردی جائے تو اسکے لئے میری کزن کومل کیسی رہے گی۔ علی سے بھی بات کی میں نے۔
عفت : اچھا وہ پارسا صاحبہ عالمہ بھی جو ہے۔ مجھے تو وہ ابنارمل لگتی ہے سچ پوچھو تو سوال کیا پوچھو جواب کیا دیتی ہے۔ اور موٹی بھی ہے۔ اسے کوئ ٹینشن ہے شائد جسکی وجہ سے وہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتی ہے۔
فائزہ : جی شائد۔
کومل : فائزہ پلیز میری شادی کرادو تمھیں خدا کا واسطہ ہے۔ میں اس اکیلے رہنے کی ذلت کو نہیں برداشت کرسکتی۔ میں نے اتنا پڑھا پھر بھی کہیں سے رشتہ نہیں اتا۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا اب تم کسی کی بھی منتیں کرو انکو پیر پکڑو بس میرا رشتہ کردو۔ میری ساتھ کی سب لڑکیوں کی شادیاں ہورہی ہیں۔ اور ایک میرا ڈر ہی نہیں نکلتا لوگوں سے ۔
(فون پہ بیل بجتی ہے)
عفت : فائزہ تم کومل کے بارے میں کچھ رہی تھی؟
فائزہ : انٹی پلیز یہ رشتہ قبول کرلیں۔
عفت : اوکے تو تم لوگ اجائو ملنیں۔
سردار : کیا کہہ رہی ہو۔ لڑکے والے ہمیں کہہ رہے ہیں ملنے کا؟ ایسا نہیں ہوتا انکو انا چاہئے۔ ہم کشمیر میں رہتے ہیں اور وہ سندھ میں۔ اتنا سفر طے کرکے ہم وہاں جائیں۔ انکو بولو وہ خود ائیں۔
فائزہ : عمر کو بہت مشکل سے اینگلینڈ سے چھٹی ملی ہے۔ اسے پھر واپس جانا ہے۔ تو کوئ بات نہیں اپ لوگ چلے جائیں۔
کومل : ہاں ابا پلیز مجھے سندھ جانا ہے۔ مجھ سے عالمہ کے امتحان مزید نہیں دے سکتی میں کچھ تفریح چاہتی ہوں زندگی میں۔
عمر : تو اپنے عالمہ کورس پورا نہیں کیا؟
کومل: جی بس میں پورا نہیں کرسکی۔
عمر: دیکھیں ہم انگلینڈ میں تبلیغ کی غرض سے جارہے ہیں اپکا کورس بھی نہیں مکمل تو اپ کیسے انکو اسلام کی تبلیغ کرسکیں گی؟ اچھا چلیں چھوڑیں یہ بتائیں کہ میں اپکو ایک کروڑ دے دوں تو اپ اسکا کیا کریں گی؟
کومل : میں غریبوں میں بانٹ دوں گی۔
عمر : اپکے ابو نے ہم سے یہ رشتہ مانگا ہے۔ تو اپ نے کیوں مانگا ہے۔
کومل : دیکھیں مجھے اس عالمہ بننے میں کوئ انٹرسٹ نہیں ہے میں تو اپنے سکول فیلو کو پسند کرتی ہوں۔ (اس کی بکواس ہی سننے کے لئے رہ گئ تھی۔ ایک تو شکل بھی اتنی بری ہے نا بوڈی اچھی اوپر سے اسکے نخرے کون برداشت کریگا اسے۔ اوپر سے اتنج خراب ڈریسنگ لگ ہی نہیں انگلینڈ کا بیلیئنر۔ سچ سچ ہی بتادو اسی میں بھلائ ہے, مگر یار امیر ہے۔ بھاڑ میں جائے ایسا امیر)
عمر :اچھا تو یہ بات ہے۔ تو اتنی دور ائ کیوں رشتہ کے لئے؟
کومل : وہ رشتہ تو ایک بہانہ تھا مجھے تو سندھ گھومنا تھا اور مجھے عالمہ کے امتحان بھی نہیں دینے میں پاگل ہوچکی ہوں امتحان دے دے کر۔
(ایک مہینہ بعد)
فائزہ : کومل یہ عمر اور اسیہ کی شادی کا کارڈ ایا ہے تم بھی انوائٹڈ ہو۔
کومل : کیا؟؟ وہ شادی کررہا ہے۔ اسکو کوئ اور ہی پسند تھی مجھے صرف بلا کر اس کو جلوایا ہے اس نے۔ تاکہ اسیہ مجھ سے جلے اور شادی کے لئے راضی ہوجائے۔ ویسے کتنی عجیب بات ہے نا میں رشتہ کی غرض سے گئ نا ان لوگوں نے رشتہ کی غرض سے بلایا۔ مگر اتنے دور رہ کر بھی ہمارا ملنا لکھا تھا مقدر میں۔
فائزہ : ہاں چھوڑدو ان لوگوں کو۔ تم اپنے عالمہ کے امتحان پہ دھیان دو۔
کومل : یار میں نے کتنی دفعہ کہا ہے مجھے عالمہ کی ڈگری نہیں لینی۔ مجھے ڈاکٹری پڑھنی ہے۔
فائزہ : اچھا کرتے ہیں کچھ تمھارے داخلے کے لئے۔
اسیہ : کیسی ہو کومل؟
کومل : میں ٹھیک ہوں تمھاری بیٹی ادن کیسی ہے؟
اسیہ : ہاں وہ بھی ٹھیک ہے۔
کومل: تو اپنی بیٹی کی تصویر تو دکھائو۔
اسیہ : نہیں عمر یہاں تبلیغ میں ہیں تو وہ تصویریں نہیں بنواتے۔
کومل : اور کیا کررہی تھی۔ ٹی وی دیکھتی ہو؟
اسیہ : نہیں یوٹیوب ہی ہے اسی کو ٹی وی پہ لگا دیتے ہیں۔
کومل : اچھا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں