باری!
یونی میں جب ہم ملتے ہیں پانچ سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں۔۔۔تو ہم سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال ہوتا ہے ایک دوسرے کے بارے میں۔۔۔
" یہ بھی ہماری کلاس فیلو ہے؟؟ اسکی حرکتیں تو چیک کرو۔۔۔ اس نے بھی یہ دیکھا ہوگا کبھی جو ہم نے بھی دیکھا ہوا ہے۔۔"
پینڈو دیہاتی بچے اور امیر بچے ایک ہی میرٹ پہ ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔۔۔
امیر بچیاں : یار اسکا عبایا دیکھ۔۔ گندی ایسے ہی اٹھ کر اجاتی ہے۔۔۔ نہاتی بھی نہیں۔۔۔ یار اسکے اسلامی لیکچر سے تو اللہ بچائے اس میں اسلام کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے۔۔ اور ویسے بھی ہم۔یہاں ڈگری لینے ائیں ہیں اسکے لیکچر سننے نہیں ائے۔۔۔
پینڈو بچیاں : یار اس لڑکی کے نہ سر پہ دوپٹہ ہے نہ سینے پہ پتا نہیں کس گھر کی ناجائز اولادیں ہیں ہمارے ساتھ چمڑ گئیں ہیں۔۔ روز تو ایسے بن ٹھن کر اتیں ہی جیسے کوٹھے میں اپنی باری کا انتظار کرنے اتی ہوں۔۔۔
اور معاملہ ہوجاتا ہے حل جب ان امیر اور شادیاں ہوجاتیں ہیں۔۔۔
اپ سب بھی مبارک ہو۔۔۔یہ لیں لڈو ہیرے بھی اس میں۔۔۔ کھانا چاہیں تو کھالیں ورنہ گلے میں لٹکا لیں۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں