بحث
بحث برائے میڈیکل کی ننگی پتلی ہڈیاں بمابلہ نقاب عبایا والی موٹی حسینہ :
ہم سب کو اسلام سکھاتے ہوئے کیسی لگتی ہیں۔۔
م : اپنا جسم دیکھا ہے کبھی ائینہ میں جسکو تو خود نہیں دیکھ سکتی کسی مرد نے کیا دیکھنا ہے۔۔؟؟ اور رونا مچایا ہوتا ہے ہر وقت شادی کا۔
ن : ہم نے کوئ رونا نہیں مچایا ہوتا تم لوگوں کی وجہ سے مرد ہمیں نہیں صرف تم سب کو ہی دیکھتے۔۔ اگر مچایا ہوتا بھی ہے۔۔ تو ظاہر تم لوگ حق جو مارتی ہو ہمارا۔۔۔رب سے تم کو ڈر نہیں لگتا اج کوئ شراب سے گردے خراب کررہی ہے تو کوئ کلیجہ کس بات کی ڈاکٹر ہو تم۔لوگ خود کو تو ٹھیک کر نہیں سکتی عوام کو کرو گی؟
م : چلا تم مریلوں سے نہیں جاتا کھیلا تم لوگوں سے نہیں جاتا۔۔ جوک تم۔لوگ کوئ سنا نہیں سکتے۔۔ زندہ لاشیں بن کر رہتے ہو ساری زندگی۔۔ نہ خود خوش رہتے ہو نہ کسی کو رہنے دیتے ہو۔ پہاڑ پہ تم۔لوگ نہیں چڑھ سکتے۔۔ بیمار بچوں کی فوج پیدا کردیتے ہو ہمارے منہ پہ مارنے کے لئے۔۔ تو خودی علاج بھی کرلیا کرو اپنا بھی اور انکا بھی۔۔۔
ن : بہن۔۔ ہم صرف خدا کی رضا کے لئے اپنے مردوں کے کہنے پر یہ سب جائز طریقے سے کرتے ہیں۔۔ تمھاری طرح نہیں کسی بھی مرد کے کہنے پہ کبھی جسم کا یہ حصہ دکھائو اور یہ۔۔۔
م : تمھارے یہ جائز مرد ہمارے پاس ہی اتے ہیں جائز ہونے کے لئے پہلے۔۔اپنے مردوں کو تم اگر سنبھال سکتی تو کیا ہی بات تھی۔۔۔
ن : بہن دیکھ اب نکاح کرلو۔۔۔ اور جسم کا تماشا مت بنائو اپنا۔۔۔ چاہے تو ہمارے مردوں سے کرلو۔۔مگر ایسے ذلیل نہ کرو پردے کو۔
م : تمھارے مرد کسی کام کے ہوتے تو مردوں کے پاس جاتے ناکے ہر مسئلہ پوچھنے تمھارا ہمارے پاس اجاتے۔۔
م : تمھاری خوش فہمی ہے کہ لوگ تمھیں حسین کہتے ہیں۔۔ روزہ فاقہ تم۔لوگ نہیں رکھ سکتے کھا کھا پھٹنے والی حالت ہوگئ ہے۔ ہمیں یہ مرد فولو کرتے ہیں ہر جگہ تم سے پہلے۔۔
ن : مگر ملتا تو کچھ نہیں۔۔ تو ہمارے پاس کیا لینے اتے ہیں۔۔ تمھارے ہڈیوں میں کوئ دم خم ہوتا تو وہ تمھارے پاس ہی ہوتا ہمارے پاس اکر کیا کرتا۔ ایک بھوکے رہنے اور ہڈیوں کی نمائش کرنے کو ہی پورا اسلام سمجھتے ہو تم لوگ؟؟ ان ہڈیوں کو ڈھانپ لو تو شائد گوشت چڑھ جائے ان پر۔۔اور تمھارے مرد گوشت کھانے کے چکر میں ہمارے پاس نہ بھٹکتے پھریں۔۔۔
م : ڈرو خدا کے غضب سے۔۔۔ خدا نے ہمیں بنایا ہے تم خدا کو برا کہہ رہی ہو؟ اور ہم میں سے اکثر بہت غریب ہوتیں ہیں۔۔ نہیں تمھاری طرح مردوں کو میٹھی میٹھی اسلامی باتیں کرکے مردوں کو پھسا یا جاتا ہم سے۔۔ہمیں اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوتا ہے۔۔
ن : تو اسی خدا نے ہمیں بھی بنایا ہے۔۔ ! اپنا اپ نظر اتا ہے تو ہمارا بھی دیکھ لو۔ جسکا مزاک اڑاتے تم لوگ تھکتے نہیں۔۔۔!
ہم زندگی کا اکثر حصہ مردوں کے بغیر ہی گزارتے ہیں۔۔ کیونکہ انکو معاش اور بہت سی دینی زمہ داریوں کی وجہ سے تمھاری کافر عورتوں سے ملاپ کرنا پڑتا ہے۔۔ ورنہ تمھارے کافر مرد انکا جینا دھوبھر کردیں۔۔۔ خیر شکریہ کہ تم خود تو کافر ہو مگر انکو مسلمان بناکر بھیجتی ہو ہمارے گھر۔۔کہ جب ہم ملاپ کرتےہیں تو واقعی میں لگتا کہ کسی مسلمان سے کررہے ہیں۔۔۔
اور گائیز ہوپ کہ اپکو ہماری یہ محبت بھری لڑائ پسند ائ ہو۔۔۔
اللہ تعالئ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ امین !
ن + م : ہم ایک ہی ہیں بس ائینہ ہیں ایک دوسرے کا۔۔۔ تو ہمیں مل جل کر رہنا چاہئے۔۔۔اور مرادوں کو زندگی سے نکال دینا چاہئے۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں