اولاد طلاق کے بعد!

 صمد : تم نے یہ نوکری نہیں چھوڑنییں کہہ دیا ہے میں نے بس۔


صبا : میں امید سے ہوں۔ پتا ہے نا آپکو پھر بھی آپ انسسٹ کررہے ہیں۔ میں تھک گئ ہوں ہر سال آپکی اولادیں پیدا کرکر کے۔ رحم کرو مجھ پر۔


صمد : تمھاری ضد تھی یہ۔ ہوگیا شوق پورا تمھارا۔ اب انکو کھلائےگا کون تمھارا باپ۔ مجھے  نہیں معلوم مجھے اس مہینے دس ہزار کہیں سے بھی لاکر دو۔ مرتی ہو تو مرجائو۔


صبا : آپ ایسے بھی کبھی ہونگے آپکا یہ روپ بھی دیکھون گی میں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ مجھے تو ناز اس محبت پہ کہ دنیا میں میرے جیسا بے حد محبت کرنے والا شوہر کسی کا ہے نہیں۔ اب آپکو پیسے اور بچوں کے آگے میری جان کی بھی کوئ پرواہ نہیں۔


صمد : ہاں نہیں ہے! میں مررہا ہوتا کما کما کر حالت خراب ہوگئ ہے میری مگر تمھاری منحوسیت اتنی ہے کہ رزق میں برکت نہیں۔ تمھارے یاروں سے میل ملاپ ختم نہیں ہوتے۔ میں دفتر میں کتنی مشکل سے گزارا کرتا ہوں۔ تمھاری حرکتیں سارے جہاں کو پتا ہیں۔


صبا : مجھے صرف بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھا ہے تم نے۔ کبھی سوچا ہے کہ تمھارا وقت بھی چاہئے ہوتا ہے مجھے۔ کبھی باہر کھانے کو کو بھی دل کرسکتا میرا۔ میں دیواریں اور تمھارے بچے دیکھ دیکھ کر ذہنی مریضہ بن گئ ہوں۔ تو کیا کروں اگر کچھ دیر کسی غیر مرد سے بات کرلی تمھارے پاس تو وقت نہیں ہوتا مجھ سے بات کرنے کا گنوار سمجھتے مجھے تم۔


صمد : ٹپااااااش تھپڑ مارتے ہوئے۔۔۔ اس گندی اولاد کو لے کر دفع ہوجائو میرے گھر سے۔۔۔ طلاق طلاق طلاق۔ 


دس سال بعد :


گلریز : ماں چھوڑ دو یہ کام۔ میں کرلوں گا تم اتنی بیمار رہنے لگی ہو۔


صبا : تمھارے باپ نے کوئ کسر بھی تو نہیں چھوڑی کسی بھی ظلم کی۔ میرا قصور تھا جو میں تمھارے باپ سے جنون کی حد محبت کرتی تھی۔ کتنی عورتوں سے تمھارے باپ کے تعلقات تھے۔ 


پتا نہیں میں اس کے نکاح میں رہ کر بھی بس اسی کو تلاشتی رہتی تھی۔ محبت کے لئے ترس گئ تھی تمھارے باپ کی میں۔ 


گلریز : چھوڑ ماں۔ یہ دیکھ میں تیرے لئے کیا لایا ہوں جلیبیاں تجھے پسند ہیں نا۔ کتنے دن سے سوچ رہا تھا لانے کا مگر تجھے تو حالات کا پتا ہے نا۔


صبا : اپنے باپ کی بیوی کو دے آ۔۔۔ شائد اسکے دل کو کچھ سکون مل جائے۔۔۔ میرا تو ویسے ہی دنیا کی ہر چیز سے دل اچاٹ کردیا ہوا ہے تمھارے باپ نے۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں