ہمارا پیارا مدرسہ للبنات :
ہمارا پیارا مدرسہ للبنات :
شازمہ : صبا باجی یہ جو ہم نے مدرسہ کا نیا کمرہ صاف کیا ہے یہ صرف ہم۔دونوں کا ہوگا۔
صبا : ہاں کیوں نہیں میں تو تمھیں ویسے بھی علی کہتی ہوں بس ہم۔دونوں یہاں اپنی محبت کی شروعات کریں گے۔ کائنات تم۔کو تو پتا ہے کائنات کو انگریزی میں یونیورس کہتے ہیں اور تم تو میری یونیورسٹی ہو۔ پوری کائنات ہو مجھے ڈگری تو دلادو یار
کائنات : صبا باجی ایک ڈگری کیا آپ پوری کی پوری کائنات لے لو یہ تمھاری ہی تو ہے۔
صبا : (یہ خدا کی عظیم نعمت ہی تو ہے کہ مجھے تم۔جیسی قیمتی تحفے دئے خدا نے۔۔ الله تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے)
(تینوں عزیز ترین دوستوں نے تیکھی مگر پیار بھری نظر سے ایک دوسرے کو دیکھا)
نازمین : باجی یہ حدیث پڑھیں نا مجھے اپکا بیان بہت پسند ہے۔
صبا : یتیم سے ہمیشہ شفقت سے پیش آئو۔ یتیم کے سر پہ جو شفقت کا ہاتھ پھیرتا ہے تو اسکو اسکے بال جتنی نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ کائینات کیا میں تمھارے سر پر ہاتھ پھیر لوں۔
نازمین : کاینات باجی نے تو دوپٹہ اوڑھا ہوا ہے دوپٹہ سائڈ پہ کریں نا۔
عائشہ :صبا باجی میرے بھائ کے لئے اردو کا یہ بند تو سمجھا دیں۔
صبا : یار یہ اردو نظمیں تو مجھے خود بڑی مشکل سے سمجھ آئیں تھیں۔ میں نیٹ سے نکال کر کل لادوں گی انکی تشریح تم۔فکر نہ کرو۔ تمھارے بھائ کے پاس نیٹ والا موبائل نہیں ہے نا کوئ بات نہیں۔ مگر جلد ہی آپ لوگ بھی لے لو آج کے دور میں بے حد ضرورت رہتی ہے اسکی۔
عائشہ : صبا باجی آپ نے دو بند چھوڑ دئے تھے نا آپ نے کہا تھا کل لکھ دوں گی۔ میں اتنے دن سے اتنتظار کررہی ہوں آپ کب لکھ کر دینگی۔
صبا : بس یار ٹائم ملتے ہی آپکا کام کردوں گی۔ ریشما میں نے سنا ہے تمھاری اگلے ہفتے شادی ہے تم۔لوگوں نے بتایا ہی نہیں۔
ریشما : نہیں میری تو نہیں۔
یار جن کو شادی کی جلدی نہیں ہوتی انہیں کی ہوجاتی ہے۔ ایک ہماری جو مرے جارہے ہیں ہم۔ہماری نہیں ہوتی۔ انکی شرم و حیا کی وجہ سے خدا انکو نوازتا ہے بیشک۔
ماشاءاللہ ریشما اپنے گھر میں کتنی خوش ہے اور کتنی چڑ رہی تھی شادی کےنام پہ۔
کائینات : ہاں یہ بات تو ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں