عشق مدہوش!

 وقار : یہ آخری سال ہے ہماری پڑھائ کا پتا ہے نا اس کے بعد تم کو اپنے اصلی گھر جاناں ہے۔


فاطمہ : اور ہم فیل ہوگئے تو؟


وقار : کیوں ہوگی فیل تم نکاح میں ہو تم میرے تمھیں مجھ پر بھروسہ نہیں۔ تمھیں ان جامعہ کے استاذہ کا تو کچھ سمجھ آتا نہیں کتنی دفعہ کہا ہے مجھ سے پڑھ لیا کرو پر نہیں۔ یار سلائ کڑھائ تو جاہل لڑکیاں بھی کر لیتیں ہیں۔ مجھے اور ہماری فیملی کو ڈاکٹر چاہئے۔ مجھ سے اب اور اتنظار نہیں ہورہا اور تم ہو کہ سیرئیس ہی نہیں ہوتی۔ وزن بھی کم کرو نا زوجہ محترمہ ورنہ ڈاکٹر بھی میں اور مریض بھی میں ہی لگوں گا۔


فاطمہ : تو مجھ سے بڑا رہا جارہا ہے جیسے آپکے بغیر؟ مگر آپکی شرطیں پوری پوری کرنے تک میں ختم ہوجائونگی۔ 


وقار : تو پھر کیا کروں میں ایک تمھارے پنڈ کے حسین ترین پنجابی آئے دن نئ نئ فرمائشیں انکی سنتے رہو۔ ایک تو میری بیوی نہیں دے رہے اوپر سے جس اذیت میں ان لوگوں نے مجھے ڈالا ہوا ہے۔ میں پڑھائ کے ساتھ کیسے مینیج کروں جاب ڈرائونگ۔


فاطمہ : ہم بھاگ کر شادی کرلیتے ہیں ویسے بھی نکاح تو ہوا وا ہی ہے ہمارا۔ 


وقار : قتل کردیں گے یہ لوگ ہمیں۔ اس جدائ میں قتل ہونے سے تو بہتر ہے یہی مار دیں ہم دونوں کو۔ یہ ویسے بھی غلط ہے۔ اور تمھارا پینڈو باپ ابے چپک جائے تو جان ہی نہیں چھوڑتا اتنی لمبی لمبی چھوڑتا۔ تمھاری وجہ سے اسکی پاگلوں والی باتیں بھی سننی پڑتیں مجھے


فاطمہ : ہاں ان میں تھوڑی تھوڑی صمد بانڈ والی خصوصیات پائ جاتیں ہیں۔

وقار : تم میرا مزاق اڑارہی ہو۔۔۔بس آئیندہ نہیں چپکوں کا تمھارے ساتھ

فاطمہ : یار دنیا میں ایک تمھاری ماں کے علاوہ کوئ مائ کا لال پیدا نہیں ہوا جو آپکی انسلٹ کرسکتے۔

وقار : ماں تو نہیں کرتی تم ہی کرتی ہو۔

 فاطمہ : صحیح بات ہے ویسے!

آپ فیل زیادہ کرتے ہیں۔ میں تو سچ بولتی فیل اپنے آپ ہوجاتا۔

وقار : ہاں دنیا میں ایک تم ہی سچی ہو۔

فاطمہ : ہاں اس میں تو واقعی کوئ شک نہیں۔ آپ بول لیں گے تو کچھ چلا تو نہیں جائے گا آپکا۔ 

وقار : شوہر کو کبھی شوہر کا درجہ بھی دے دیا کرو۔ میں بولوں دن کو رات تو تمھیں بھی وہی بولنا ہے۔

فاطمہ : جی تو وہی بولتیں یہ بولتے بولتے مجھےپاگل بولنا شروع ہوگئے ہیں۔ پاگل خانے ایڈمیٹ ہوتے ہوتے بچی ہوں۔ 

وقار : جو بھی ہے تم پہ میری اطاعت فرض ہے چاہے تمکو سب پاگل کہیں۔

فاطمہ : ویسے آپکی فیملی کے جو اتنی بڑی لیسٹ ہے نخروں کی ڈگری اچھا فیگر اچھی جاب سلائ کڑھائ بھی اور اب عالمہ بھی بنوں۔ یہ سب تو قبر تک پنچادیں گے مگر آپکے دل تک نہیں پہنچائیں گے کبھی۔ گھر تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا آپکے بھائ بھابھی کو کونسے مسئلے رہتے ہم سے آئے دن۔ ڈورے ڈالتیں ہیں وہ تم پر۔ 

وقار : اوہو فائنیلی ہمیں ہماری زوجہ محترمہ ہمیں بالاخر مل ہی گئیں۔ ویسی اتنی حسین تو تم۔کبھی نہیں لگی جتنی سہاگ رات میں لگ رہی ہو۔ ڈاکٹر کی بیوی لگ رہی ہو آج حقیقت میں۔ ظلم ڈھا رہی ہو۔

فاطمہ : جنت ملی ہے آج مجھے میری خوشی تو دکھے گی ہی چہرے سے۔ آپ بہت عرصے بعد اتنے پرسکون لگ رہیں ہیں یار یہ شادی تھی یا پل صراط اففف بہت مشکل سے ملیں ہیں ہم۔ ہم کبھی بھی ایک دوسرے کو نہیں چھوڑیں گے۔ اور گانے بند خدا کا شکر کے طور پر۔ 

وقار : گانے تو بند نہیں ہونگے۔ ولیمہ تو میں نے ایسا کرنا کہ دنیا دیکھے گی۔


فاطمہ : یار ہماری اب عمر ہے کوئ ایسی چھچوریی حرکتیں کرنے کی؟ نماز تو پڑھ لیں ۔


وقار : پڑھ لیں گے نماز بھی۔ اوکے آج ہماری بیگم کی سنی جائیگی صرف آج سے گانے بند۔ بند کرنا تو نا ممکن ہے مگر ہم پوری کوشش کریں گے کہ اب نہ چلیں۔ یہ رنگ تمھاری منہ دکھائ کے لئے دینی نہیں تھی کیونکہ کونسا پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں۔ 


فاطمہ : اسکی ضرورت نہیں تھی پر یہ ہیرے کے رنگ حد درجہ خوبصورت ہے۔ 


بس کردیں۔ سوجائیں اب صبح میں اپکو اٹھا دوں گی میں نہانے جارہی آپ بھی نہا لیں۔


وقار : نہیں مجھے نہیں نہانا ابھی آج ہی تو سکون کی نیند آئ ہے تم۔نہالو صبح نہالوں گا۔ بس میں سوں گا نیند آرہی ہے آج رخصتی کے جھمیلوں نے تھکا دیا بہت زیادہ۔ 


فاطمہ : اوکے جیسے آپکی مرضی

صبح کے وقت :


فاطمہ :اٹھ جائیں یار فجر تو پڑھ لیں۔ آپ نے غسل بھی نہیں کیا۔  ہمارا پہلا دن برکتوں والا ہونا چاہئے۔


وقار :بیگم آج تو چھٹی دے دو! اتنی جلدی اٹھا دیا ہے یار۔ 


فاطمہ :ہر گز نہیں ہمارے بچے کیا سوچیں کیسا گنہگار باپ ہے انکا نمازیں قضا کرتا ہے۔ 


وقار :ہم لوگ نہیں پڑھتے یار اتنی نمازیں۔ نمازیں پڑھیں یا بزنس سنبھالیں۔


فاطمہ :اب سے دونوں کام ساتھ ساتھ


۔وقار : سچ میں تم نے ہماری زندگی بہار بنا دی ہے گھر میں کتنی لڑائیاں ہوتیں تھیں تم نے سب کو نمازوں پہ لگا دیا تمھارا احسان ہے ہم۔پر۔



فاطمہ : آپ لوگ خود بہت اچھے ہیں۔ 

(ختم شد)

تبصرے

مشہور اشاعتیں