⁦میری جمعیت کا سفرمیری جامعہ ⚖️⁩میں!

 اسلام علیکم ورحمته الله وبرکته!


پیاری دوست کیسی ہو؟ امید ہے خوش و خرم اور خیریت ہوگی۔ میرا دل کیا تمھیں خط لکھنے کا کیونکہ بات بذریہ خط کی ہوئ زیادہ جلدی دل تک پہنچتی ہے اور جلد اثر رکھتی ہے۔


قرآن کی آیت سے شروع کرتی ہوں۔


" کہہ دو کہ یہ کتاب الله کے فضل اور اسکی مہربانی سے نازل ہوئ ہے تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کررہے ہیں "


(سورہ یونس- آیت نمبر 58)


ہم جمعیت میں یہ سب کام کرتے تھے۔شاید آپ کو پتا ہو کیونکہ آپ کا بھی پالا پڑا ہوگا کسی نہ کسی صورت میں جمعیت سے بلکہ مجھے جہاں تک یاد ہے آپکے ڈین ہی جماعت اسلامی کے تھے جس کی وجہ سےسدرہ کو شکوہ رہتا تھا کہ کوئ انجوائے منٹ نہیں ہوپاتی ڈیپارٹ میں۔ تو تم۔لوگ ہماری طرف آجایا کرو یعنی فارمیسی میں جب کبھی تفریح کا موڈ ہو۔ 


ہمیں جب یونی کا سامنا ہوا تو ہماری ایک سال سینیر فریحہ باجی نے سب سے پہلے ہمیں سورہ حجرات سنوائ ہم جی سی آر (گرلز کامن روم)  اور تب پہلی دفعہ سورہ حجرات سنی۔


شائد تمھارے بھی ڈیپارٹ میں تم کو کسی نے سنوائ ہو۔ بس اسکا سننا تھا میری ساری ہوٹنگ ختم ہوگئ جو اکثر میں بھی کردیا کردیتی تھی ان کےسامنے۔ کیونکہ اس میں اسی طرح کی نصیحتیں ہیں۔


مومنو کسی بات کے جواب میں الله اور اسکے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور الله سے ڈرتے رہو۔ بیشک الله سنتا جانتا ہے۔


اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آوازوں سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو۔ اس طرح  ان کے روبرو نہ بولا کرو ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال ضایع ہوجائیں۔ اور تم خبر بھی نہ ہو۔


سورہ حجرات آیت نمبر 1٫2


بس جناب یہ سننے کے بعد ہم نے پوری سورہ حجرات بھی پڑھ ڈالی اور پھر جمعیت میں ہمارا زبردستی اندراج کرالیا گیا۔  


حالانکہ ہمیں دوست احباب اور گھر والوں نے لاکھ منع کیا  کہ کسی صورت بھی اندراج نہیں کرانا مگر جو سکون  ہمیں انکے میگزین "پکار" پڑھ کر اور انکی لڑکیوں سے مل کر ملتا تھا اور کہیں نہیں ملتا تھا۔


پھر ہماری ذمہ داریاں سومپی گئیں۔ سب سے پہلے جو خاتون ہمیں جمعیت میں لائیں وہ پٹھان تھیں حفصہ تھا شائدانکا نام ہمیں کام سکھا کر انہوں نے ہمارا فارمیسی ڈیپارٹ چھوڑ دیا۔ان کو وہاں کا ماحول سمجھ نہیں آرہا تھا اور ایڈوکیشن ڈیپارٹ میں اپنا ٹرانسفر کرادیا۔ جلد ہی انکی شادی اوراولاد بھی ہوگئ۔


پھر ہمیں سورہ حجرات پڑھائ گئ،سورہ واقعہ،سورہ فاتحہ پڑھائ گئ ترجمے کےساتھ اور سورہ عصر بھی۔ اس کے بعد ہماری ذمہ داریاں لگائیں گئیں۔ کہ یہ سب آپکو باقیوں کو بھی پڑھانیں ہیں۔ بہت مشکل کام لگتا تھا۔ مگر کچھ تھوڑا بہت کیا ہم نے اس طرح سے تو نہیں جیسے کرنے کا حق تھا مگر اپنی سی کوشش ضرور کی۔


جمعیت طالبات کی ون ڈش پارٹیاں بھی ہوتیں تھیں۔ باعث تسکین تھیں سب۔ پھر ہم سب کارکنان کو ایک بار جیوگرافی ڈیپارٹ میں سورہ مومنون سمجھائ گئ۔


" بیشک ایمان والے رستگار ہوگئے۔ جو نماز میں عجز ونیاز کرتے ہیں۔ اور جو بے ہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں۔ اور جو زکوت ادا کرتے ہیں۔ اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے یا کنیزوں سے جو انکی ملک ہوتیں ہیں۔ کہ ان سے مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں۔ اور جو اسکے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ الله کی مقرر کی ہوئ حد سےنکل جانے والے ہیں۔  اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں۔ یعنی جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے "


(سورہ مومنون - آیت 1 تا 11)



پھر ےچلتے ہم نے اسکی پوری 118 آیات ختم کر ڈالیں۔ پھر ہمیں ہمارے جماعت اسلامی کی استازہ نے ہمیں پڑھایا کہ بتائو انسان اور جانور میں کیا فرق ہے۔ کافی دیر تک ہم سب سوچ سوچ کر لکھتے رہے۔ ان کے دئے گئےصفحہ پر۔ پر سمجھ نہیں سکے کہ کیا فرق ہے۔ پھر آخر میں انہوں نے خودی بتادیا کہ جانوروں کو الہام نہیں ہوتے انپر الہامی کتاب نازل نہیں ہوئیں۔ بس یہ فرق سننا تھا کہ تب سے کوشش ہے اس الہامی کتاب کو کبھی نہ چھوڑنے کی۔ 


اس کے بعد آرٹ اوڈی ٹوریم میں حیا پر ہمیں کافی اچھا پروگرام سننے کو ملا۔ جس کا مین موضوع تھا "الله سے حیاءکرو" یعنی گناہ کرتے ہوئے جھجھکو کہ خدا دیکھ رہا ہے۔ اس میں ہمیں ہمارے اس مائینڈ سیٹ کو بھی بہت اچھی طرح صحیح لائن پر لانے کی کوشش کی گئ کہ حیاء محض لباس کے ڈھک لینے سے نہیں آتی۔ جیسا کہ نقاب حجاب کرکے اکثر خواتین خود کو عقل کل سمجھنا شروع ہوجاتیں ہیں اور دوسروں کو کسی خاطر میں نہیں لاتیں۔ اور بیشتر باتیں تو یہ ہمیں بہت اچھے طریقے سے سمجھائ گئیں وہاں کہ آپکا اندر باہر ایک جیسا ہوناچاہئے۔ جیسی پاکیزہ آپ باہر سے دکھتی ہو ویسی ہی پاک نیت آپ کے اندر بھی پنپرہی ہو۔ اس کے بعد مجھ میں کافی تبدیلی آئ میں نے غرور کرنا چھوڑ دیا اپنے حجاب اور نقاب پر۔


اس کے بعد ہم سے دو سال سینئیر عفیرہ باجی نے اپنی کلاس میں ہماراگروپ بناکر ہمیں سورہ نور پڑھائ جو امید ہے انکی کلاس والوں نے بھی پڑھ لی ہوگی۔ 


"اور جو لوگ پرہیز گار عورتوں پر بدکاری کا عیب لگائیں اور ان پر چار گواہ نہ لائیں توانکو اسی درے مارو اور کبھی انکی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بدکردار ہیں "


سورہ نور - آیت نمبر 4


والعصر کی یادہانی کے ساتھ۔ دعائوں میں یاد رکھئےگا۔ الله آپکا اور ہماراحامی و ناصر ہو۔


🤲 آمین ثم آمین!


صرف خواتین کے لئے :


⁦⚖️⁩میری جمیعت کا سفر میری جامعہ میں !


چھوتا حصہ:


ان سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مجھے نگران علم وادب بائیوفیکلٹی بھی بنادیا۔جس میں مجھے پوری بائیو فیکلٹی کے تمام ڈیپارٹ والوں سے ملنا اوران سے جمعیت اور پکار میگزین کےلئےآرٹیکلز لکھوانے تھے۔ اتنا سفر تو نہیں ہوپایامگر اپنی فارمیسی ڈیپارٹ ایونینگ شفٹ میں ایک لڑکی شبیہ سے لکھوایا جو انتظامیہ تک پہنچانہیں سکی۔ اس نے کافی اچھا لکھا تھا ویسے۔ تب سے میری عادت ہوگئ مختلف آرٹیکلز لکھنے کی۔ کچھ نہ کچھ اسی وجہ سےلکھتی رہتی ہوں۔ میں سوچ رہی ہوں کہ اب اپنا ادھورا کام پورا کرنےجائوں کراچی یونی ورسٹی۔ اپنےسمیت پوریبائوفیکلٹی سے آرٹیکلز لکھوائوں۔ جمعیت  اور پکار میگزین کے لئے۔ 


ہمارا کتابوں کا میلہ بھی لگتا تھا جامعہ میں جمعیت کے لڑکے جس کو آرگنائش کراتے تھے۔ اس سے بہت آسانی ہوجاتی تھی ہمیں ورنہ ہمیں اپنی کورس کی کتابیں لینےاردوبازار خوار ہونا پڑتا تھا۔ میلے سےمیں نے کافی کتابیں خریدیں فارمیسی کی بھی اور دو "طب بنوی صلی الله علیہ والہ وسلم " ایک دوست نیلم کو تحفہ کردی اور ایک اپنے پاس رکھلی۔ وہ میری بہت اچھی دوست تھی مہاجر خاندان سے تھیں انھوں نے مجھے ایک بہت بڑا انتہائ خوبصورت سکارف گفٹ کیا۔ میری عزیز ترین حدید کی دوستوں انعم اور نازیہ سے میں نے اپنی برتھ ڈے پہ خود بول کر سفید لیب کوٹ گفٹ لیا۔ جو میرےپاس اب تک ہے۔مگر اب میں اس میں پوری نہیں آتی۔ اس وقت پتلی تھی کافی۔


پھر جمعیت طالبات کی الگ سےسرگرمیاں اور  میلے لگتے تھے۔جس میں مجھے جو ذمہ داری ہماری سینئرز نے سومپی وہ تھی آئس کریم سٹال کی۔زندگی میں پہلی دفعہ میں نے اتنی زیادہ آئس کریم کھلائ لڑکیوں کو۔ ایک بار ہم لڑکیوں نے بریانی کا اسٹال لگایا۔جو حدید سے لے کر گئے ہم۔


سب سے مشکل کام جمعیت میں جو مجھے لگا وہ تھا تمام طالبات تک قرآن تدریس کی دعوت دینا وہ بھی اکثر لڑکوں کے سامنے ہی دینی پڑتیں تھیں۔کیونکہ خواتین اکیلے نظرنہیں آتیں تھیں کہیں۔ مجھے یاد ہے میں نے اپنی لائبریرین کو بھی تدریس کی دعوت دی جس پر وہ بہت خوش ہوئیں۔ اور کہنے لگیں کہ شکریہ کہ آپ نے ہمیں بھی اس لائق سمجھا کہ ہم۔تک دعورت پہنچائی۔ پمفلیٹ اور جمعیت کے بہت سے آئٹمز سیل کرنے لڑکیوں تک ایک مشکل کام تھا۔ پوری جامعہ میں جگہ جگہ جمعیت کے ایونٹس کے پوسٹرز چسپاں کرنا بھی ایک جان جوکھوں والا کام تھا۔ ملاقاتیں کرنا اس سے بھی مشکل کام تھا۔ اور لڑکیوں کو جمعیت کا حصہ بنانا سب سے مشکل ترین کام۔ چھوٹے چھوٹے پیارے کارڈز بنانے جس پر اسلامی پیغامات نشرکرنے ہوتے وہ بھی ڈیپارٹ کے کورس سٹڈی سے زیادہ کام تھا۔ 

تبصرے

مشہور اشاعتیں