سہاگن۔
سہاگن :
ابو ابو ابو ۔۔۔۔ مجھے اس جانور سے نجات دلا دیں یہ مار دیگا مجھے۔
ایمن اپنے سسرال میں ناجانے کب سے ظلم سہہ رہی تھی۔ اور اپنے فوت ہوئے والد کو پکار رہی تھی۔ لوگوں نے یتیم سمجھ کر ایمن کی صمد سے شادی تو کردی مگر شادی کے بعد بھی اسکی محتاجی ختم نہ ہوئ۔
صبا : تو اب کیا مسئلہ کھڑا کیا ہوا ہےان لوگوں نے؟
ایمن : بس باجی کچھ نہ پوچھو۔۔۔کام نہ کرو گھر کے تو مارتا ہے یہ خبیس اور مجھ سے مجرا نہ کرالیں یہ لوگ تو انکی کمائ نہیں ہوتی گھر میں روٹی نہیں آتی۔۔۔ کتنے کتنے غیر مردوں میں مجھے اٹھاتا بٹھا تا ہے یہ آپکو کیا معلوم۔۔
صبا :(دل میں، مجھے سب معلوم ہے) اچھا تو ایسا ہے۔ دیکھو وہ شوہر ہے تمھارا تو یہ سب تو برداشت کرنا ہی ہوگا۔ طلاق اگر لے بھی لی تو کون سہارا بنے گا غریب یتیم کا۔ تم کو اس کے باپ کے ساتھ سونا پڑے یا چچا کےساتھ بس اب تو وہی تمھارا سب کچھ ہے۔ کرلو بہن برداشت اسکو۔۔ آخرت میں منہ بھی دیناخدا کو ۔۔ شوہر کو ہی ناراض کردیا تو خدا کو کیا منہ دکھائو گی۔
ایمن : باجی اب نہیں ہوتا برداشت مجھ سے ان کے ظلم۔ آپ کو پتا ہے بیس بیس روٹیاں پکواتے مجھ سے روز یہ لوگ۔
صبا : توسالن بھی پکا لیا کرو۔ خالی روٹی کیسے کھائیں گے۔
دونوں ہسنے لگیں۔ باجی آپ بھی نا جب آتیں ہیں تب تفریح کرتیں ہیں۔
صبا : تم کو تو پتا ہے عمر کتنا ہساتے ہیں۔ بس انھی سے عادت پڑ گئ ہے دوسروں کو بھی ہسانے کی۔
ایمن : میں آپ کیلئے کچھ پکا دیتی ہوں۔
صبا : کھا کر آئے ہونگے۔۔ صحت شحت نہیں دیکھی انکی۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں